لومڑی کے گُھٹنے

احسان کا بدلہ احسان

 

                                                           


                                       احسان کا بدلہ احسان                                                                                                                           


ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک شیر اور چوہا رہتے تھے۔ سردیوں کے دین تھے۔ ایک دن شیر دھوپ میں لیٹا آرام کر رہا تھا ۔ دو لیٹے لیٹے ہو گیا۔ اس دوران چوہا بھی تھی سے باہر آگیا۔ اس نے جب شیر کو سوتے دیکھا تو ہمت کرکے اس کی دم پر چڑھ گیا اور اس کی گردن کے بالوں سے کھیلنے لگا۔ اتنے میں شیر کی آنکھ کھل گئی۔ تو اسے بہت قصہ آیا۔ اس نے چوہے کو اپنے پنجے میں پکڑ لیا اور اس سے کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں ۔ میں۔ تجھے مار ڈالوں گا۔ چوہا ڈر گیا۔ اس نے شیر سے کہا۔ جنگل کے بادشاہ! مجھ پر رحم کرو مجھے چھوڑے رو ہو سکتا ہے کہ میں بھی آپ کے کام آجاؤں ۔ شیر نہا اور اس نے کہا کہ تم معمولی سے چو ہے میرے کیا کام آسکتے ہو۔ لیکن میں ترس کھا کر تمہیں چھوڑ دیتا ہوں۔ کچھ دن بعد ایک شکاری جنگل میں آیا۔


اس نے شیر پر جال پھینکا اور شیر حال میں پھنس گیا۔ اتنے میں چوہا ادھر آنگا۔ اس نے شیر کو جال میں پھنسے ہوئے دیکھا۔ چوہا آگے بڑھا اور اپنے تیز دانتوں سے جال کا شنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد جال کٹ گیا اور شیر آزاد ہو گیا۔ غیر جان گیا کہ ایک معمولی چوہا کس طرح شیر کے کام آسکتا ہے۔ اس نے چوہے کا شکریہ ادا احسان کا بدلہ احسان نیکی کا صلہ ضرور ملتا ہے“

Comments

Post a Comment