- Get link
- X
- Other Apps
امتحان
کمرا خالی کر دیا۔ اب
میں دوسری چال چلا، دروازوں میں شیشے تھے، ان پر کاغذ چپکا دیا۔ لیمپ روشن کر کے
آرام سے سات بجے سے سوجاتا اور صبح نو بجے اٹھتا۔ اگر کسی نے آواز دی اور آنکھ کھل
گئی تو ڈانٹ دیا کہ خوامخواہ میری پڑھائی میں خلل ڈالا جاتا ہے، اگر آنکھ نے کلی
اور بی کونے کا نام لگایا گیاmamoonتو وہ دیا کہ میں بڑھتے وقت بھی جواب نہ دوں گا۔
آئندہ کوئی مجھے وقت نہ کرے۔ بعض وقت ایسا ہوا کہ لیمپ بھڑک کر چینی سیاہ ہوگئی
اور میری زیادہ محویت ومحنت کا نتیجہ بھی گئی ۔ بعض وقت والد والدہ کہتے بھی تھے
کہ اتنی محنت نہ کیا کر وہ لیکن میں زمانے کی ترقی کا نقشہ کھینچ کر ان کا دل خوش
کر دیتا تھا۔ خدا خدا کر کے یہ مشکل بھی آسان ہوگئی اور امتحان کا زمانہ قریب آیا۔
میں نے گھر میں بہت کہا کہ ابھی میں امتحان کے لیے جیسا چاہیے ویسا تیار نہیں ہوں
لیکن میری مسلسل حاضری لا کلاس اور شبانہ روز کی محنت نے ان کے دلوں پر سکہ بٹھا
رکھا تھا۔ وہ کب ماننے والے تھے، پھر بھی احتیاطا اپنے بچاؤ کے لیے ان سے کہ دیا
کہ اگر میں قیل ہو جاؤں تو اس کی ذمے داری مجھ پر نہ ہوگی کیونکہ میں اپنے آپ کو
ابھی امتحان کے قابل نہیں پاتا۔ لیکن والد صاحب مسکرا کر بولے کہ امتحان سے کیوں
ڈرے جاتے ہو ، جب محنت کی ہے تو شریک بھی ہو جاؤ، کامیابی دنا کامیابی خدا کے ہاتھ
ہے: مرد باید که هراسان نه شود میں نے بھی تقدیر اور تدبیر پر ایک چھوٹا سا لکچر
دے کر ثابت کر دیا کہ تدبیر کوئی چیز نہیں، تقدیر سے تمام دنیا کے کام چلتے ہیں۔
قصہ مختصر درخواست شرکت دی گئی اور منظور ہوگئی اور ایک دن وہ آیا کہ ہم ہال ٹکٹ
لیے ہوئے مقام امتحان پر پہنچ ہی گئے۔ گو یاد نہں کیا تھا لیکن دو وجہ سے کامیابی
کی امید تھی۔ اول تو "امداد غیبی" دوسرے پرچوں کی الٹ پھیر ۔ شاید وہ
حضرات جو امتحان میں کبھی شریک نہیں ہوئے ، اس مضمون کو نہ سمجھیں ، اس لیے ذرا
وضاحت سے عرض کرتا ہوں ۔ امداد غیبی سے مراد امیدواران امتحان کی اصطلاح میں وہ
مدد ہے، جو ایک کو دوسرے سے یا کسی نیک ذات نگران کار سے یا عند المواقع کتاب سے
پہنچ جاتی ہے۔ پرچوں کی الٹ پھیر کو بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے لیکن تقدیر سب کچھ
آسان کر دیتی ہے۔ بعض شریف کم حیثیت ملازم ایسے بھی نکل آتے ہیں، جو با مید انعام
پر چہ بدل دیتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اس سے ایک محنت کرنے والے کو نقصان پہنچ جاتا
ہے، لیکن تدبیر تقدیر کا مسلہ جیسا اس کارروائی میں حل ہوتا ہے، دوسری کسی صورت
میں حل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اور بھی صورتیں ہیں لیکن وہ بہت کم پیش آتی ہیں ،
اس لیے ان پر بھروسا کرنا نادانی ہے۔ خیر آمدم برسر مطلب، پونے دس بجے گھنٹی بجی
اور ہم بسم اللہ کہ گر امتحان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ یہاں ایک بہت خلیق اور ہنس
مکھ مگر ان کار تھے۔ مجھے جگہ نہیں ملتی تھی ، میں نے ان سے کہا وہ میرے ساتھ ہو
لیے۔ جگہ بتائی اور بڑی دیر تک ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ میں سمجھا چلو بیڑا پار
ہے، اللہ دے اور بندہ لے۔ ٹھیک دس بجے پرچہ تقسیم ہوا۔ میں نے پر چہ لیا۔ سرسری
نظر ڈالی اور میز پر رکھ دیا۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ پرچہ پڑھنے کے بعد جیسا
میرے چہرے پر اطمینان تھا، شایدہی کسی کے چہرے پر ہوگا۔ خود تو اس پرچےmamoon کے متعلق
اندازہ نہ کر سکالیکن نگران کار صاحب کو یہ کہتے ضرور نا کہ پرچہ مشکل ہے۔ میں کئی
مرتبہ اول سے آخر تک اس کو پڑھ گیا لیکن یہ ن معلوم ہوا کہ کس مضمون کا ہے۔ جوابات
کی NOT
To be continue
- Get link
- X
- Other Apps
Comments

part 3 send kARAY
ReplyDelete