- Get link
- X
- Other Apps
میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی
میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی
جبکہ میں پڑھی لکھی
ہوں
میرا نام شہزادی ہے سچ
بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا
لیکن کچھ مجبوریوں میں
عمر سے شادی کر دی گئی
مجھے عمر سے بدبو آتی
تھی
ان کا کام
اتنا اچھا نہ تھا
خیر میں اللہ کے سامنے
رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ
یا تو عمر کو مار دے یا
پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح
وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا
میں ہر بات پہ عمر کو
بے عزت کر دیتی
تنقید کرتی عمر پہ غصہ
کرتی
عمر مجھے پیار سے
سمجھاتا
کبھی چپ ہو جاتا
کبھی غصہ ہو کر گھر
سے باہر چلا جاتا
میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور
ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے
امی ابو نے بہت سمجھایا
کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا
بس بیچارہ پڑھا لکھا
نہیں ہے
باقی کیا کبھی اس نے تم
پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو
لیکن میں بس طلاق لینا
چاہتی تھی
میں نے جھوٹ بولا کے وہ
خرچہ نہیں دیتا مجھے
امی ابو نے عمر کو بلوا
لیا
وہ میرے سامنے بیٹھا
تھا
امی ابو کہنے لگے عمر
کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے
عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا
انکل جی جو کما کر لاتا
ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں
میرے چاچا تایا
سب موجود تھے وہاں
میں بولی مجھے 30
ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس
اس شرط پہ ہی جاوں گی
میں عمر کے ساتھ
عمر خاموش ہو گیا
سر جھکائے بیٹھا
تھا
چاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30
ہزار
کچھ لمحے خاموش رہا پھر
میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس کی بولا ٹھیک
ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے
میں نے دل کی
گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا
میں عمر کے ساتھ چلی
گئی
ہم بجلی پانی گیس
کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے
عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا
گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں
اس کے علاوہ نہ میں
کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا
خیر عمر مجھے ہر مہینے
30 ہزار روپے دیتا
ایک دن میں نے کہا مجھے
آئی فون لیکر دو
میں بس تنگ کرنا چاہتی
تھی کے عمر مجھے طلاق دے دے
عمر مسکرانے لگا
میرے پاوں پکڑے اور
بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہو
تم بس مجھے چھوڑ کر
جانے کی بات نہ کیا کرو
جو کہو گی کروں
گا
میں کبھی کھانے میں مرچ
ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک
وہ تھکا ہارا کام سے
آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا
نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا
ہے
میں جتنی نفرت کرتی تھی
اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست
کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں
جب ہم ایک بس اڈے کے
پاس سے گزرے تو
میری زندگی نے جو لمحہ
دیکھا
میں بے جان ہو
گئی
وہ عمر جسے میں بہت
نفرت کرتی تھی
جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی
جس کو کبھی میں نے پیار
سے کھانا تک نہ دیا تھا
جس کا کبھی حال نہ
پوچھا تھا
جسے میں انسان ہی نہیں
سمجھتی تھی
جسے میں قبول ہی نہیں
کرنا چاہتی تھی
وہ عمر سر پہ بوجھ
اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا
ٹانگیں کانپ رہی
تھی
پرانے سے کپڑے
پہنے
پسینے سے شرابور
پاوں میں ٹوٹی ہوئی
جوتی پہنی تھی
فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی
وہ میرے لیئے کیا کچھ
کر رہا تھا
اتنے میں ایک شخص بولا
اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر
عمر کو شاید بھوک لگی
تھی
ہاتھ میں روٹی پکڑی رول
کیا ہوا
ساتھ روٹی کھا رہا تھا
ساتھ سامان اٹھا رہا تھا
میں قربان جاوں
میرا عمر میرے لیئے
کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی
رہی
کام ختم ہوا
To be continue
- Get link
- X
- Other Apps
Comments



okay
ReplyDeletepart 2 send karay
ReplyDelete