لومڑی کے گُھٹنے

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی Part 1/

 

                                    میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی 




میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی 

جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں 

میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا 

لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی 

مجھے عمر سے بدبو آتی تھی  

ان کا کام  اتنا  اچھا نہ تھا 

خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی  تھی یا اللہ 

یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح 

وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا 

میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی 

تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی 

عمر مجھے پیار سے سمجھاتا 

کبھی چپ ہو جاتا 

کبھی غصہ ہو کر گھر سے  باہر چلا جاتا 

میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے 

امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا 



بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے 

باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو 

لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی 

میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے 

امی ابو نے عمر کو بلوا لیا 

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا 

امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے

عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا 

انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں 

میرے چاچا  تایا سب موجود تھے وہاں 

میں بولی  مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس 

اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ 

عمر خاموش ہو گیا 

سر جھکائے بیٹھا تھا 

چاچا بولے  ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار 

کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا

لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے 

میں نے دل کی  گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا 

میں عمر کے ساتھ چلی گئی 

ہم بجلی پانی گیس  کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے 

عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں 

اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا 

خیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا 

ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو 

میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دے 

عمر مسکرانے لگا 

میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان  نہ ہو

تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو

جو کہو گی کروں گا 

میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک  

وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا 



نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہے 

میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا 

میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں 

جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو 

میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا 

میں بے جان ہو گئی 

وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی 

جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی  تھی 

جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا 

جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا 

جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی 

جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی 

وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا 

ٹانگیں کانپ رہی تھی 

پرانے سے کپڑے پہنے 

پسینے سے شرابور 

پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 

فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی 

وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا 

اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر 

عمر کو شاید بھوک لگی تھی 

ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا 

ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا 

میں قربان جاوں 

میرا عمر میرے لیئے کس  درد سے گزر رہا تھا 

میں آنسو لیئے دیکھتی رہی 

کام ختم ہوا

                To be continue                                                          


Comments

Post a Comment